ابنا: امریکہ میں بہت سی لابیاں یہودیوں ، صہیونیوں اور اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی ایپک سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے۔ بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایپک کو زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہے اور مشرق وسطی سے متعلق اس ملک کی خارجہ پالیسی کا تعین یہی لابی کرتی ہے۔
ایپک نہ تو امریکہ میں اسرائیل کی قدیم ترین لابی ہے اور نہ ہی تعداد کے اعتبار سے اس کو دوسری لابیوں پر برتری حاصل ہے لیکن اس کے باوجود اسے امریکہ کے سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں بہت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہے۔
امریکی صدر کا تعلق چاہے کسی بھی پارٹی سے ہو وہ ایپک کے سالانہ اجلاس میں لازمی طور پر شرکت کرتا ہے۔ اور صہیونی ریاست کا صدر بھی صہیونی وزیر اعظم کے ہمراہ ہر سال اس اجلاس میں شرکت کرنے کے لۓ واشنگٹن کا دورہ کرتا ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ امریکہ میں اسرائيل کی لابیوں خصوصا ایپک کو اس قدر زیادہ اثر و رسوخ کیوں حاصل ہے؟
اس سوال کے جواب میں چند وجوہات بیان کی گئي ہیں۔ ایک گروہ کا کہنا ہےکہ امریکہ کا اقتصاد یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اور چونکہ امریکی سیاستدان دولتمند حلقوں سے وابستہ ہیں اس لۓ اسرائيل امریکہ کے سیاسی ڈھانچے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے۔
دوسرے گروہ کا کہنا ہےکہ امریکہ کے کثیرالاشاعت اخبارات سے لے کے ہالی وڈ تک چونکہ صہیونیوں کے قبضے میں ہے اس لۓ صہیونی اسی ذریعے سے جیسی چاہتے ہیں امریکی راۓ عامہ تیار کرتے ہیں۔ جبکہ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے یہودی متحد ہیں اور وہ دوسری ہر نسلی اور مذہبی اقلیت سے زیادہ انتخابات میں شرکت اور سیاستدانوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔
مذکورہ تمام نظریات امریکی سیاست اور اقتصاد سے متعلق بعض حقائق کو بیان کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہۓ کہ امریکہ میں اسرائیل اور صہیونزم کی حمایت امریکی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کے عقیدے میں تبدیل ہوچکی ہے۔
عالمی صہیونزم کا نظریہ پیش کرنے والوں نے عیسائیت کے بارے میں غلط افکار و نظریات بیان کرنے کے ذریعے حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور کا ربط فلسطین یا بقول ان کے ارض موعود کے ساتھ ملا دیا۔اور دعوی کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس زمانے میں ظہور کریں گے جب بیت المقدس میں مسجد الاقصی کے کھنڈرات پر معبد سلیمان کی تعمیر کی جاۓ گی۔
اسی غلط نظریۓ کی وجہ سے امریکہ کے بعض عیسائی فلسطین کے قابض صہیونیوں سے بھی زیادہ انتہا پسند ہیں۔اور وہ فلسطین اور مشرق وسطی میں ہر طرح کے قتل عام اور قوانین کی خلاف ورزی کو جائز جانتے ہیں۔ بعض اعداد و شمار سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکہ میں صہیونی مسیحیوں کی تعداد ستر ملین سے بھی زیادہ ہے اور اس ملک کی سینیٹ کے سو سے زیادہ رکن اپنے آپ کو اسرائیل کا پکا حامی کہتے ہیں۔
حالانکہ امریکہ کے صرف دس سینیٹر یہودی ہیں۔ امریکہ کے دوسرے اداروں مثلا انتظامیہ اور عدلیہ میں بھی اسی سے ملتی جلتی صورتحال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ کی اکیاون ویں ریاست ہے جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ اسرائيل نے امریکہ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
.......
/169